خطبہ جمعہ: سوشل میڈیا کا فتنہ اور اس کا شرعی حل
خطبہ اولیٰ (تمہید)
الحمد لله رب العالمين، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه وسلم تسليماً كثيراً. أما بعد:
اے اللہ کے بندو! تقویٰ اختیار کرو، کیونکہ یہی سب سے بڑا زادِ راہ ہے۔ آج کا موضوع ہے: سوشل میڈیا کا فتنہ اور اس کا شرعی حل۔
نکتہ اول: سوشل میڈیا کا غلط استعمال — قرآن و سنت کی روشنی میں
قرآن کریم:
إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا
(سورۃ الاسراء: 36)
ترجمہ: "بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"
تفسیر امام ابن کثیر رحمہ اللہ (تفسیر ابن کثیر):
«وَقَوْلُهُ: {كُلُّ أُولَـٰئِكَ} أَيْ هَذِهِ الصِّفَاتُ مِنَ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ وَالْفُؤَادِ {كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً} أَيْ سَيُسْأَلُ الْعَبْدُ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتُسْأَلُ عَنْهُ»
اردو ترجمہ: "اور اللہ کا فرمان 'ان سب کے بارے میں' یعنی سننے، دیکھنے اور دل کی یہ صفات — 'ان سب کے بارے میں سوال ہوگا' یعنی قیامت کے دن بندے سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور یہ اعضاء بھی خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔"
تشریح: امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس عبارت سے واضح ہے کہ کان، آنکھ اور دل — جو سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت مسلسل کام میں رہتے ہیں — سب قیامت کے دن جواب دہی کا ذریعہ بنیں گے۔
احادیث مبارکہ:
1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (سنن الترمذي، حدیث حسن)
ترجمہ: "آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی (فضول) چیزیں چھوڑ دے۔"
شرح ابن قیم رحمہ اللہ:
«وَقَدْ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَرَعَ كُلَّهُ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ، فَهَذَا يَعُمُّ التَّرْكَ لِمَا لَا يَعْنِي: مِنَ الْكَلَامِ، وَالنَّظَرِ، وَالِاسْتِمَاعِ، وَالْبَطْشِ، وَالْمَشْيِ، وَالْفِكْرِ، وَسَائِرِ الْحَرَكَاتِ الظَّاهِرَةِ وَالْبَاطِنَةِ، فَهَذِهِ كَلِمَةٌ شَافِيَةٌ فِي الْوَرَعِ»
اردو ترجمہ: "نبی کریم ﷺ نے تمام تقویٰ و ورع کو ایک ہی کلمے میں جمع کر دیا، فرمایا: آدمی کے حسنِ اسلام کی علامت یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزیں چھوڑ دے۔ یہ حدیث ہر اس چیز کو ترک کرنے پر مشتمل ہے جو بےفائدہ ہو — چاہے وہ گفتگو ہو، دیکھنا ہو، سننا ہو، ہاتھ کا عمل ہو، چلنا ہو یا سوچنا ہو، اور تمام ظاہری و باطنی حرکات — پس یہ ایک ایسا کلمہ ہے جو ورع (تقویٰ) کے باب میں شفا بخش ہے۔"
شرح: ابن قیم رحمہ اللہ کے اس قول کی روشنی میں سوشل میڈیا پر بے مقصد اسکرولنگ، غیر ضروری ویڈیوز دیکھنا اور فضول گفتگو، سب اسی "لایعنی" میں شامل ہے جس سے بچنا حسنِ اسلام کی علامت ہے۔
2) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً (صحیح البخاری)
ترجمہ: "مجھ سے پہنچاؤ، اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔"
قولِ سلف:
حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے: «ابْنَ آدَمَ إِنَّمَا أَنْتَ أَيَّامٌ، فَإِذَا ذَهَبَ يَوْمٌ ذَهَبَ بَعْضُكَ»
ترجمہ: "اے ابنِ آدم! تو محض چند دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ گزر جاتا ہے۔"
تنبیہ: ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ "یہ صرف تفریح ہے، اس پر حساب نہیں ہوگا" — یہ سوچ خطرناک ہے۔
نکتہ دوم: نگاہیں بچاؤ — فحش مواد اور بری ویب سائٹس سے بچو
قرآن کریم:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ
(سورۃ النور: 30)
ترجمہ: "مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے۔"
تفسیر امام قرطبی رحمہ اللہ (الجامع لأحکام القرآن):
«يُقَالُ: غَضَّ فُلَانٌ مِنْ فُلَانٍ أَيْ وَضَعَ مِنْهُ؛ فَالْبَصَرُ إِذَا لَمْ يُمَكَّنْ مِنْ عَمَلِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ مِنْهُ وَمَنْقُوصٌ. رُوِيَ عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ»
اردو ترجمہ: "کہا جاتا ہے: غَضّ کا مطلب ہے کمی کرنا؛ پس نگاہ کو جب اپنا کام کرنے سے روک دیا جائے تو وہ کم اور محدود کر دی گئی۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی نظر تو معاف ہے مگر دوسری تمہارے لیے (جائز) نہیں۔"
احادیث مبارکہ:
1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا، مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ؛ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ (صحیح مسلم)
ترجمہ: "ابنِ آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، جس کا پانا یقینی ہے؛ چنانچہ آنکھوں کا زنا (بری) نظر ڈالنا ہے۔"
شرح امام نووی رحمہ اللہ (شرح النووی علی مسلم):
«مَعْنَى الْحَدِيثِ: أَنَّ ابْنَ آدَمَ قُدِّرَ عَلَيْهِ نَصِيبٌ مِنَ الزِّنَا. فَمِنْهُمْ: مَنْ يَكُونُ زِنَاهُ حَقِيقِيًّا، بِإِدْخَالِ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ الْحَرَامِ. وَمِنْهُمْ: مَنْ يَكُونُ زِنَاهُ مَجَازًا: بِالنَّظَرِ الْحَرَامِ، أَوِ الِاسْتِمَاعِ إِلَى الزِّنَا، وَمَا يَتَعَلَّقُ بِتَحْصِيلِهِ»
اردو ترجمہ: "حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ابنِ آدم پر زنا کا ایک حصہ مقدر کر دیا گیا ہے۔ بعض لوگوں کا زنا حقیقی ہوتا ہے، حرام فرج کے ذریعے۔ اور بعض کا زنا مجازی ہوتا ہے: حرام نظر کے ذریعے، یا زنا کی باتیں سننے اور اس کے حصول سے متعلق امور کے ذریعے۔"
شرح: امام نووی رحمہ اللہ کی اس تشریح سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر بے احتیاطی سے تصاویر اور ویڈیوز دیکھنا اسی "زنائے مجازی" میں شامل ہے۔
2) عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ نَظَرِ الْفَجْأَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي (صحیح مسلم)
ترجمہ: "میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں فوراً نظر پھیر لوں۔"
قولِ سلف:
سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول ہے: «مَا شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ خَاطِرِ سُوءٍ يَعْرِضُ لِي»
ترجمہ: "میرے لیے کوئی چیز اس بُرے خیال سے زیادہ سخت نہیں جو اچانک دل میں آ جائے۔"
تنبیہ: یہ گمان کرنا کہ "پردے کے پیچھے اسکرین پر دیکھنا گناہ نہیں" سراسر غلط فہمی ہے۔
نکتہ سوم: وقت کا ضیاع — سوشل میڈیا کی لت اور اس کا حل
قرآن کریم:
وَالْعَصْرِ * إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ
(سورۃ العصر: 1-2)
ترجمہ: "زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔"
تفسیر امام سعدی رحمہ اللہ (تیسیر الکریم الرحمن):
«وَالْخَسَارُ مَرَاتِبُ مُتَعَدِّدَةٌ مُتَفَاوِتَةٌ: قَدْ يَكُونُ خَسَارًا مُطْلَقًا، كَحَالِ مَنْ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ، وَفَاتَهُ النَّعِيمُ، وَاسْتَحَقَّ الْجَحِيمَ»
اردو ترجمہ: "خسارے کے کئی درجات ہیں، کم و بیش: بعض اوقات یہ مطلق خسارہ ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا حال جس نے دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھایا، نعمت سے محروم رہا اور جہنم کا مستحق ٹھہرا۔"
تشریح: امام سعدی رحمہ اللہ کے مطابق انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا وقت ہے، اور جو اسے بےمقصد ضائع کرتا ہے وہ اسی خسارے کا مصداق بنتا ہے جس کی طرف سورۃ العصر اشارہ کرتی ہے۔
احادیث مبارکہ:
1) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح البخاری)
ترجمہ: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔"
شرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (فتح الباری):
«قَدْ يَكُونُ الْإِنْسَانُ صَحِيحًا وَلَا يَكُونُ مُتَفَرِّغًا؛ لِشُغْلِهِ بِالْمَعَاشِ، وَقَدْ يَكُونُ مُسْتَغْنِيًا وَلَا يَكُونُ صَحِيحًا، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَغَلَبَ عَلَيْهِ الْكَسَلُ عَنِ الطَّاعَةِ فَهُوَ الْمَغْبُونُ؛ لِأَنَّ الْفَرَاغَ يَعْقُبُهُ الشُّغْلُ، وَالصِّحَّةَ يَعْقُبُهَا السَّقَمُ»
اردو ترجمہ: "بعض اوقات انسان تندرست تو ہوتا ہے مگر روزی کمانے میں مصروف ہونے کی وجہ سے فارغ نہیں ہوتا، اور بعض اوقات مالی طور پر بےنیاز تو ہوتا ہے مگر تندرست نہیں ہوتا۔ پس جب یہ دونوں (صحت اور فراغت) اکٹھی ہو جائیں اور اس پر اطاعت سے سستی غالب آ جائے تو وہی خسارے میں ہے، کیونکہ فراغت کے بعد مصروفیت اور صحت کے بعد بیماری آنی ہے۔"
شرح: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی اس شرح سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس صحت اور فراغت دونوں موجود ہوں، اگر وہ اسے سوشل میڈیا کی بےمقصد مصروفیت میں گنوا دے تو یہی وہ خسارہ ہے جس سے نبی ﷺ نے خبردار فرمایا۔
2) عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ (سنن الترمذي، حدیث حسن صحیح)
ترجمہ: "قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے کہ اس نے اسے کہاں گزارا۔"
قولِ سلف:
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے: «أَنَا مُحْتَاجٌ إِلَى الْوَقْتِ أَكْثَرَ مِنْ حَاجَتِي إِلَى الْمَالِ»
ترجمہ: "میں وقت کا اتنا محتاج ہوں جتنا مال کا محتاج نہیں۔"
تنبیہ: "میں بس تھوڑی دیر کے لیے دیکھتا ہوں" کا گمان اکثر گھنٹوں میں بدل جاتا ہے۔
نکتہ چہارم: زبان کی حفاظت — غیبت، چغلی، جھوٹ اور افتراء سے بچو
قرآن کریم:
وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا
(سورۃ الحجرات: 12)
ترجمہ: "اور تجسس نہ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔"
تفسیر امام سعدی رحمہ اللہ (تیسیر الکریم الرحمن):
«وَلَا تَجَسَّسُوا أَيْ: لَا تَفَتَّشُوا عَنْ عَوْرَاتِ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَبَّعُوهَا، وَاتْرُكُوا الْمُسْلِمَ عَلَى حَالِهِ، وَاسْتَعْمِلُوا التَّغَافُلَ عَنْ أَحْوَالِهِ الَّتِي إِذَا فُتِّشَتْ ظَهَرَ مِنْهَا مَا لَا يَنْبَغِي. وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَالْغِيبَةُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ وَلَوْ كَانَ فِيهِ»
اردو ترجمہ: "'اور تجسس نہ کرو' یعنی مسلمانوں کے عیوب کی چھان بین نہ کرو اور نہ ان کا پیچھا کرو، بلکہ مسلمان کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور اس کے ان معاملات سے صرفِ نظر کرو جن کی کھوج لگانے سے ناپسندیدہ باتیں سامنے آئیں۔ 'اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے' — اور غیبت، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کا ذکر اس چیز کے ساتھ کرنا جو اسے ناپسند ہو، خواہ وہ اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو۔"
احادیث مبارکہ:
1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ (صحیح البخاری و مسلم)
ترجمہ: "جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
شرح امام نووی رحمہ اللہ (شرح النووی علی مسلم):
«وَهَذَا كُلُّهُ حَثٌّ عَلَى حِفْظِ اللِّسَانِ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَيَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ النُّطْقَ بِكَلِمَةٍ أَوْ كَلَامٍ أَنْ يَتَدَبَّرَهُ فِي نَفْسِهِ قَبْلَ نُطْقِهِ، فَإِنْ ظَهَرَتْ مَصْلَحَتُهُ تَكَلَّمَ، وَإِلَّا أَمْسَكَ»
اردو ترجمہ: "یہ سب زبان کی حفاظت کی طرف ترغیب ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو شخص کوئی بات یا کلام کہنا چاہے، اسے چاہیے کہ بولنے سے پہلے اپنے دل میں اس پر غور کر لے، پس اگر اس کی مصلحت ظاہر ہو تو بولے، ورنہ خاموش رہے۔"
شرح: امام نووی رحمہ اللہ کی اس ہدایت کے مطابق سوشل میڈیا پر ہر پوسٹ، کمنٹ اور شیئر سے پہلے دل میں یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا اس میں کوئی بھلائی ہے یا نہیں۔
2) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ (صحیح البخاری)
ترجمہ: "جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔"
قولِ سلف:
امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے: «لَيْسَ كُلُّ مَا يُعْلَمُ يُقَالُ»
ترجمہ: "ہر جانی ہوئی بات کہی نہیں جاتی۔"
تنبیہ: بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا اور دوسروں پر بلاوجہ الزام لگانا "افتراء" اور "کذب" کے زمرے میں آتا ہے جس سے سختی سے بچنا واجب ہے۔
نکتہ پنجم: والدین کی ذمہ داری — بچوں کی نگرانی اور تربیت
قرآن کریم:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
(سورۃ التحریم: 6)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔"
تفسیر امام طبری رحمہ اللہ (جامع البیان)، بروایتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ:
«حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا، قَالَ: عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ»
اردو ترجمہ: "امام طبری رحمہ اللہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے فرمان 'اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ' کے بارے میں فرمایا: 'انہیں علم سکھاؤ اور ان کی تادیب و تربیت کرو۔'"
تشریح: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس قول سے، جسے امام طبری نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، واضح ہوتا ہے کہ آیت میں اہلِ خانہ کو آگ سے بچانے کا مطلب ان کی تعلیم و تربیت ہے — اور آج کے دور میں یہ تربیت خاص طور پر بچوں کو سوشل میڈیا کے فتنوں سے بچانے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
احادیث مبارکہ:
1) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (صحیح مسلم)
ترجمہ: "خبردار! تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"
شرح امام نووی رحمہ اللہ (شرح النووی علی مسلم):
«قَالَ الْعُلَمَاءُ: الرَّاعِي هُوَ الْحَافِظُ الْمُؤْتَمَنُ الْمُلْتَزِمُ صَلَاحَ مَا قَامَ عَلَيْهِ، وَمَا هُوَ تَحْتَ نَظَرِهِ، فَفِيهِ أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ تَحْتَ نَظَرِهِ شَيْءٌ فَهُوَ مُطَالَبٌ بِالْعَدْلِ فِيهِ، وَالْقِيَامِ بِمَصَالِحِهِ فِي دِينِهِ وَدُنْيَاهُ وَمُتَعَلِّقَاتِهِ»
اردو ترجمہ: "علماء نے فرمایا: راعی (نگہبان) وہ امانت دار محافظ ہے جو اس چیز کی اصلاح کا پابند ہے جس پر وہ مقرر ہے اور جو اس کی نگرانی میں ہے۔ اس میں یہ بات شامل ہے کہ جس کسی کی نگرانی میں کوئی چیز ہو، وہ اس میں انصاف کرنے اور اس کے دین و دنیا اور تمام معاملات میں اس کی بھلائی کا خیال رکھنے کا ذمہ دار ہے۔"
شرح: امام نووی رحمہ اللہ کی اس شرح سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے دین و دنیا دونوں کے ذمہ دار ہیں — جس میں ان کے موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی بھی شامل ہے۔
2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری و مسلم)
ترجمہ: "ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔"
قولِ سلف:
ابن قیم رحمہ اللہ کا قول ہے: «أَكْثَرُ فَسَادِ الْأَوْلَادِ إِنَّمَا يَنْشَأُ مِنْ إِهْمَالِ آبَائِهِمْ»
ترجمہ: "بچوں کا زیادہ تر بگاڑ ان کے باپوں کی غفلت سے پیدا ہوتا ہے۔"
تنبیہ: بچے کو موبائل دے کر خود کو مصروفیت سے فارغ کر لینا غفلت نہیں بلکہ امانت میں خیانت ہے۔
خطبہ ثانیہ
الحمد لله على إحسانه، والشكر له على توفيقه وامتنانه، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له تعظيماً لشأنه، وأشهد أن سيدنا محمداً عبده ورسوله، صلى الله عليه وعلى آله وصحبه وسلم. أما بعد:
فاتقوا الله عباد الله، واعلموا أن هذه الوسائل نعمة إن أحسنتم استخدامها، ونقمة إن أسأتم فيها.
دعائیں:
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يَسْتَمِعُ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُ أَحْسَنَهُ
اللَّهُمَّ احْفَظْ أَبْصَارَنَا وَأَسْمَاعَنَا وَأَلْسِنَتَنَا مِنْ كُلِّ فِتْنَةٍ
اللَّهُمَّ أَصْلِحْ أَوْلَادَنَا وَاجْعَلْهُمْ قُرَّةَ أَعْيُنٍ لَنَا
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ أَعْمَارِنَا آخِرَهَا، وَخَيْرَ أَعْمَالِنَا خَوَاتِيمَهَا
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
عملی نصیحتیں
عوام کے لیے:
- روزانہ سوشل میڈیا کے لیے وقت مقرر کریں اور اس کی پابندی کریں۔
- فحش یا مشکوک صفحات کو فوراً ان فالو/بلاک کریں۔
- شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کریں کہ خبر مصدقہ ہے یا نہیں۔
طلبہ کے لیے:
- سوشل میڈیا کو علم اور مطالعے کے وقت پر غالب نہ آنے دیں۔
- اپنے وقت کا محاسبہ روزانہ کریں کہ کتنا وقت مفید اور کتنا ضائع ہوا۔
علماء کے لیے:
- سوشل میڈیا کو دعوتِ دین کے لیے مثبت انداز میں استعمال کریں۔
- عوام کی رہنمائی کے لیے آسان اور قابلِ عمل حل پیش کریں، صرف تنقید پر اکتفا نہ کریں۔
