اپنی زبان منتخب کریں

جمعہ، 14 اگست، 2026

خطبہ جمعہ: سوشل میڈیا کا فتنہ اور اس کا شرعی حل

 خطبہ جمعہ: سوشل میڈیا کا فتنہ اور اس کا شرعی حل

خطبہ اولیٰ (تمہید)
الحمد لله رب العالمين، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه وسلم تسليماً كثيراً. أما بعد:
اے اللہ کے بندو! تقویٰ اختیار کرو، کیونکہ یہی سب سے بڑا زادِ راہ ہے۔ آج کا موضوع ہے: سوشل میڈیا کا فتنہ اور اس کا شرعی حل۔
نکتہ اول: سوشل میڈیا کا غلط استعمال — قرآن و سنت کی روشنی میں
قرآن کریم:
إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا
(سورۃ الاسراء: 36)
ترجمہ: "بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"
تفسیر امام ابن کثیر رحمہ اللہ (تفسیر ابن کثیر):
«وَقَوْلُهُ: {كُلُّ أُولَـٰئِكَ} أَيْ هَذِهِ الصِّفَاتُ مِنَ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ وَالْفُؤَادِ {كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً} أَيْ سَيُسْأَلُ الْعَبْدُ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتُسْأَلُ عَنْهُ»
اردو ترجمہ: "اور اللہ کا فرمان 'ان سب کے بارے میں' یعنی سننے، دیکھنے اور دل کی یہ صفات — 'ان سب کے بارے میں سوال ہوگا' یعنی قیامت کے دن بندے سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اور یہ اعضاء بھی خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔"
تشریح: امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس عبارت سے واضح ہے کہ کان، آنکھ اور دل — جو سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت مسلسل کام میں رہتے ہیں — سب قیامت کے دن جواب دہی کا ذریعہ بنیں گے۔
احادیث مبارکہ:
1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (سنن الترمذي، حدیث حسن)
ترجمہ: "آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی (فضول) چیزیں چھوڑ دے۔"
شرح ابن قیم رحمہ اللہ:
«وَقَدْ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَرَعَ كُلَّهُ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ، فَهَذَا يَعُمُّ التَّرْكَ لِمَا لَا يَعْنِي: مِنَ الْكَلَامِ، وَالنَّظَرِ، وَالِاسْتِمَاعِ، وَالْبَطْشِ، وَالْمَشْيِ، وَالْفِكْرِ، وَسَائِرِ الْحَرَكَاتِ الظَّاهِرَةِ وَالْبَاطِنَةِ، فَهَذِهِ كَلِمَةٌ شَافِيَةٌ فِي الْوَرَعِ»
اردو ترجمہ: "نبی کریم ﷺ نے تمام تقویٰ و ورع کو ایک ہی کلمے میں جمع کر دیا، فرمایا: آدمی کے حسنِ اسلام کی علامت یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزیں چھوڑ دے۔ یہ حدیث ہر اس چیز کو ترک کرنے پر مشتمل ہے جو بےفائدہ ہو — چاہے وہ گفتگو ہو، دیکھنا ہو، سننا ہو، ہاتھ کا عمل ہو، چلنا ہو یا سوچنا ہو، اور تمام ظاہری و باطنی حرکات — پس یہ ایک ایسا کلمہ ہے جو ورع (تقویٰ) کے باب میں شفا بخش ہے۔"
شرح: ابن قیم رحمہ اللہ کے اس قول کی روشنی میں سوشل میڈیا پر بے مقصد اسکرولنگ، غیر ضروری ویڈیوز دیکھنا اور فضول گفتگو، سب اسی "لایعنی" میں شامل ہے جس سے بچنا حسنِ اسلام کی علامت ہے۔
2) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً (صحیح البخاری)
ترجمہ: "مجھ سے پہنچاؤ، اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔"
قولِ سلف:
حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے: «ابْنَ آدَمَ إِنَّمَا أَنْتَ أَيَّامٌ، فَإِذَا ذَهَبَ يَوْمٌ ذَهَبَ بَعْضُكَ»
ترجمہ: "اے ابنِ آدم! تو محض چند دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ گزر جاتا ہے۔"
تنبیہ: ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ "یہ صرف تفریح ہے، اس پر حساب نہیں ہوگا" — یہ سوچ خطرناک ہے۔
نکتہ دوم: نگاہیں بچاؤ — فحش مواد اور بری ویب سائٹس سے بچو
قرآن کریم:
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ
(سورۃ النور: 30)
ترجمہ: "مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے۔"
تفسیر امام قرطبی رحمہ اللہ (الجامع لأحکام القرآن):
«يُقَالُ: غَضَّ فُلَانٌ مِنْ فُلَانٍ أَيْ وَضَعَ مِنْهُ؛ فَالْبَصَرُ إِذَا لَمْ يُمَكَّنْ مِنْ عَمَلِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ مِنْهُ وَمَنْقُوصٌ. رُوِيَ عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ»
اردو ترجمہ: "کہا جاتا ہے: غَضّ کا مطلب ہے کمی کرنا؛ پس نگاہ کو جب اپنا کام کرنے سے روک دیا جائے تو وہ کم اور محدود کر دی گئی۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو، پہلی نظر تو معاف ہے مگر دوسری تمہارے لیے (جائز) نہیں۔"
احادیث مبارکہ:
1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا، مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ؛ فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ (صحیح مسلم)
ترجمہ: "ابنِ آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، جس کا پانا یقینی ہے؛ چنانچہ آنکھوں کا زنا (بری) نظر ڈالنا ہے۔"
شرح امام نووی رحمہ اللہ (شرح النووی علی مسلم):
«مَعْنَى الْحَدِيثِ: أَنَّ ابْنَ آدَمَ قُدِّرَ عَلَيْهِ نَصِيبٌ مِنَ الزِّنَا. فَمِنْهُمْ: مَنْ يَكُونُ زِنَاهُ حَقِيقِيًّا، بِإِدْخَالِ الْفَرْجِ فِي الْفَرْجِ الْحَرَامِ. وَمِنْهُمْ: مَنْ يَكُونُ زِنَاهُ مَجَازًا: بِالنَّظَرِ الْحَرَامِ، أَوِ الِاسْتِمَاعِ إِلَى الزِّنَا، وَمَا يَتَعَلَّقُ بِتَحْصِيلِهِ»
اردو ترجمہ: "حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ابنِ آدم پر زنا کا ایک حصہ مقدر کر دیا گیا ہے۔ بعض لوگوں کا زنا حقیقی ہوتا ہے، حرام فرج کے ذریعے۔ اور بعض کا زنا مجازی ہوتا ہے: حرام نظر کے ذریعے، یا زنا کی باتیں سننے اور اس کے حصول سے متعلق امور کے ذریعے۔"
شرح: امام نووی رحمہ اللہ کی اس تشریح سے واضح ہے کہ سوشل میڈیا پر بے احتیاطی سے تصاویر اور ویڈیوز دیکھنا اسی "زنائے مجازی" میں شامل ہے۔
2) عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ نَظَرِ الْفَجْأَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي (صحیح مسلم)
ترجمہ: "میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں فوراً نظر پھیر لوں۔"
قولِ سلف:
سفیان ثوری رحمہ اللہ کا قول ہے: «مَا شَيْءٌ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ خَاطِرِ سُوءٍ يَعْرِضُ لِي»
ترجمہ: "میرے لیے کوئی چیز اس بُرے خیال سے زیادہ سخت نہیں جو اچانک دل میں آ جائے۔"
تنبیہ: یہ گمان کرنا کہ "پردے کے پیچھے اسکرین پر دیکھنا گناہ نہیں" سراسر غلط فہمی ہے۔
نکتہ سوم: وقت کا ضیاع — سوشل میڈیا کی لت اور اس کا حل
قرآن کریم:
وَالْعَصْرِ * إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ
(سورۃ العصر: 1-2)
ترجمہ: "زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔"
تفسیر امام سعدی رحمہ اللہ (تیسیر الکریم الرحمن):
«وَالْخَسَارُ مَرَاتِبُ مُتَعَدِّدَةٌ مُتَفَاوِتَةٌ: قَدْ يَكُونُ خَسَارًا مُطْلَقًا، كَحَالِ مَنْ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ، وَفَاتَهُ النَّعِيمُ، وَاسْتَحَقَّ الْجَحِيمَ»
اردو ترجمہ: "خسارے کے کئی درجات ہیں، کم و بیش: بعض اوقات یہ مطلق خسارہ ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا حال جس نے دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھایا، نعمت سے محروم رہا اور جہنم کا مستحق ٹھہرا۔"
تشریح: امام سعدی رحمہ اللہ کے مطابق انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا وقت ہے، اور جو اسے بےمقصد ضائع کرتا ہے وہ اسی خسارے کا مصداق بنتا ہے جس کی طرف سورۃ العصر اشارہ کرتی ہے۔
احادیث مبارکہ:
1) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ (صحیح البخاری)
ترجمہ: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔"
شرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (فتح الباری):
«قَدْ يَكُونُ الْإِنْسَانُ صَحِيحًا وَلَا يَكُونُ مُتَفَرِّغًا؛ لِشُغْلِهِ بِالْمَعَاشِ، وَقَدْ يَكُونُ مُسْتَغْنِيًا وَلَا يَكُونُ صَحِيحًا، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَغَلَبَ عَلَيْهِ الْكَسَلُ عَنِ الطَّاعَةِ فَهُوَ الْمَغْبُونُ؛ لِأَنَّ الْفَرَاغَ يَعْقُبُهُ الشُّغْلُ، وَالصِّحَّةَ يَعْقُبُهَا السَّقَمُ»
اردو ترجمہ: "بعض اوقات انسان تندرست تو ہوتا ہے مگر روزی کمانے میں مصروف ہونے کی وجہ سے فارغ نہیں ہوتا، اور بعض اوقات مالی طور پر بےنیاز تو ہوتا ہے مگر تندرست نہیں ہوتا۔ پس جب یہ دونوں (صحت اور فراغت) اکٹھی ہو جائیں اور اس پر اطاعت سے سستی غالب آ جائے تو وہی خسارے میں ہے، کیونکہ فراغت کے بعد مصروفیت اور صحت کے بعد بیماری آنی ہے۔"
شرح: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی اس شرح سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس صحت اور فراغت دونوں موجود ہوں، اگر وہ اسے سوشل میڈیا کی بےمقصد مصروفیت میں گنوا دے تو یہی وہ خسارہ ہے جس سے نبی ﷺ نے خبردار فرمایا۔
2) عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ (سنن الترمذي، حدیث حسن صحیح)
ترجمہ: "قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے کہ اس نے اسے کہاں گزارا۔"
قولِ سلف:
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے: «أَنَا مُحْتَاجٌ إِلَى الْوَقْتِ أَكْثَرَ مِنْ حَاجَتِي إِلَى الْمَالِ»
ترجمہ: "میں وقت کا اتنا محتاج ہوں جتنا مال کا محتاج نہیں۔"
تنبیہ: "میں بس تھوڑی دیر کے لیے دیکھتا ہوں" کا گمان اکثر گھنٹوں میں بدل جاتا ہے۔
نکتہ چہارم: زبان کی حفاظت — غیبت، چغلی، جھوٹ اور افتراء سے بچو
قرآن کریم:
وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا
(سورۃ الحجرات: 12)
ترجمہ: "اور تجسس نہ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔"
تفسیر امام سعدی رحمہ اللہ (تیسیر الکریم الرحمن):
«وَلَا تَجَسَّسُوا أَيْ: لَا تَفَتَّشُوا عَنْ عَوْرَاتِ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَبَّعُوهَا، وَاتْرُكُوا الْمُسْلِمَ عَلَى حَالِهِ، وَاسْتَعْمِلُوا التَّغَافُلَ عَنْ أَحْوَالِهِ الَّتِي إِذَا فُتِّشَتْ ظَهَرَ مِنْهَا مَا لَا يَنْبَغِي. وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَالْغِيبَةُ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ وَلَوْ كَانَ فِيهِ»
اردو ترجمہ: "'اور تجسس نہ کرو' یعنی مسلمانوں کے عیوب کی چھان بین نہ کرو اور نہ ان کا پیچھا کرو، بلکہ مسلمان کو اس کے حال پر چھوڑ دو اور اس کے ان معاملات سے صرفِ نظر کرو جن کی کھوج لگانے سے ناپسندیدہ باتیں سامنے آئیں۔ 'اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے' — اور غیبت، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کا ذکر اس چیز کے ساتھ کرنا جو اسے ناپسند ہو، خواہ وہ اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو۔"
احادیث مبارکہ:
1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ (صحیح البخاری و مسلم)
ترجمہ: "جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"
شرح امام نووی رحمہ اللہ (شرح النووی علی مسلم):
«وَهَذَا كُلُّهُ حَثٌّ عَلَى حِفْظِ اللِّسَانِ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَيَنْبَغِي لِمَنْ أَرَادَ النُّطْقَ بِكَلِمَةٍ أَوْ كَلَامٍ أَنْ يَتَدَبَّرَهُ فِي نَفْسِهِ قَبْلَ نُطْقِهِ، فَإِنْ ظَهَرَتْ مَصْلَحَتُهُ تَكَلَّمَ، وَإِلَّا أَمْسَكَ»
اردو ترجمہ: "یہ سب زبان کی حفاظت کی طرف ترغیب ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو شخص کوئی بات یا کلام کہنا چاہے، اسے چاہیے کہ بولنے سے پہلے اپنے دل میں اس پر غور کر لے، پس اگر اس کی مصلحت ظاہر ہو تو بولے، ورنہ خاموش رہے۔"
شرح: امام نووی رحمہ اللہ کی اس ہدایت کے مطابق سوشل میڈیا پر ہر پوسٹ، کمنٹ اور شیئر سے پہلے دل میں یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا اس میں کوئی بھلائی ہے یا نہیں۔
2) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ (صحیح البخاری)
ترجمہ: "جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔"
قولِ سلف:
امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے: «لَيْسَ كُلُّ مَا يُعْلَمُ يُقَالُ»
ترجمہ: "ہر جانی ہوئی بات کہی نہیں جاتی۔"
تنبیہ: بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانا اور دوسروں پر بلاوجہ الزام لگانا "افتراء" اور "کذب" کے زمرے میں آتا ہے جس سے سختی سے بچنا واجب ہے۔
نکتہ پنجم: والدین کی ذمہ داری — بچوں کی نگرانی اور تربیت
قرآن کریم:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
(سورۃ التحریم: 6)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ۔"
تفسیر امام طبری رحمہ اللہ (جامع البیان)، بروایتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ:
«حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا، قَالَ: عَلِّمُوهُمْ وَأَدِّبُوهُمْ»
اردو ترجمہ: "امام طبری رحمہ اللہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے فرمان 'اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ' کے بارے میں فرمایا: 'انہیں علم سکھاؤ اور ان کی تادیب و تربیت کرو۔'"
تشریح: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس قول سے، جسے امام طبری نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے، واضح ہوتا ہے کہ آیت میں اہلِ خانہ کو آگ سے بچانے کا مطلب ان کی تعلیم و تربیت ہے — اور آج کے دور میں یہ تربیت خاص طور پر بچوں کو سوشل میڈیا کے فتنوں سے بچانے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
احادیث مبارکہ:
1) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ (صحیح مسلم)
ترجمہ: "خبردار! تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"
شرح امام نووی رحمہ اللہ (شرح النووی علی مسلم):
«قَالَ الْعُلَمَاءُ: الرَّاعِي هُوَ الْحَافِظُ الْمُؤْتَمَنُ الْمُلْتَزِمُ صَلَاحَ مَا قَامَ عَلَيْهِ، وَمَا هُوَ تَحْتَ نَظَرِهِ، فَفِيهِ أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ تَحْتَ نَظَرِهِ شَيْءٌ فَهُوَ مُطَالَبٌ بِالْعَدْلِ فِيهِ، وَالْقِيَامِ بِمَصَالِحِهِ فِي دِينِهِ وَدُنْيَاهُ وَمُتَعَلِّقَاتِهِ»
اردو ترجمہ: "علماء نے فرمایا: راعی (نگہبان) وہ امانت دار محافظ ہے جو اس چیز کی اصلاح کا پابند ہے جس پر وہ مقرر ہے اور جو اس کی نگرانی میں ہے۔ اس میں یہ بات شامل ہے کہ جس کسی کی نگرانی میں کوئی چیز ہو، وہ اس میں انصاف کرنے اور اس کے دین و دنیا اور تمام معاملات میں اس کی بھلائی کا خیال رکھنے کا ذمہ دار ہے۔"
شرح: امام نووی رحمہ اللہ کی اس شرح سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے دین و دنیا دونوں کے ذمہ دار ہیں — جس میں ان کے موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی بھی شامل ہے۔
2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری و مسلم)
ترجمہ: "ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔"
قولِ سلف:
ابن قیم رحمہ اللہ کا قول ہے: «أَكْثَرُ فَسَادِ الْأَوْلَادِ إِنَّمَا يَنْشَأُ مِنْ إِهْمَالِ آبَائِهِمْ»
ترجمہ: "بچوں کا زیادہ تر بگاڑ ان کے باپوں کی غفلت سے پیدا ہوتا ہے۔"
تنبیہ: بچے کو موبائل دے کر خود کو مصروفیت سے فارغ کر لینا غفلت نہیں بلکہ امانت میں خیانت ہے۔
خطبہ ثانیہ
الحمد لله على إحسانه، والشكر له على توفيقه وامتنانه، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له تعظيماً لشأنه، وأشهد أن سيدنا محمداً عبده ورسوله، صلى الله عليه وعلى آله وصحبه وسلم. أما بعد:
فاتقوا الله عباد الله، واعلموا أن هذه الوسائل نعمة إن أحسنتم استخدامها، ونقمة إن أسأتم فيها.
دعائیں:
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ يَسْتَمِعُ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُ أَحْسَنَهُ
اللَّهُمَّ احْفَظْ أَبْصَارَنَا وَأَسْمَاعَنَا وَأَلْسِنَتَنَا مِنْ كُلِّ فِتْنَةٍ
اللَّهُمَّ أَصْلِحْ أَوْلَادَنَا وَاجْعَلْهُمْ قُرَّةَ أَعْيُنٍ لَنَا
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ أَعْمَارِنَا آخِرَهَا، وَخَيْرَ أَعْمَالِنَا خَوَاتِيمَهَا
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
عملی نصیحتیں
عوام کے لیے:
- روزانہ سوشل میڈیا کے لیے وقت مقرر کریں اور اس کی پابندی کریں۔
- فحش یا مشکوک صفحات کو فوراً ان فالو/بلاک کریں۔
- شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کریں کہ خبر مصدقہ ہے یا نہیں۔
طلبہ کے لیے:
- سوشل میڈیا کو علم اور مطالعے کے وقت پر غالب نہ آنے دیں۔
- اپنے وقت کا محاسبہ روزانہ کریں کہ کتنا وقت مفید اور کتنا ضائع ہوا۔
علماء کے لیے:
- سوشل میڈیا کو دعوتِ دین کے لیے مثبت انداز میں استعمال کریں۔
- عوام کی رہنمائی کے لیے آسان اور قابلِ عمل حل پیش کریں، صرف تنقید پر اکتفا نہ کریں۔

جمعرات، 13 اگست، 2026

زوجین کے باہمی حقوق و فرائض

 خطبہ: زوجین کے باہمی حقوق و فرائض


نبوی منہج کی روشنی میں گھر کی بنیاد

تمہید

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

معزز بھائیو! ہمارے سلسلے کی اب تک کی کڑیوں میں ہم نے اولاد کی تربیت کے نبوی منہج پر گفتگو کی۔ لیکن یہ تربیت اُسی گھر میں پروان چڑھتی ہے جس کی بنیاد زوجین کے تعلق پر رکھی جاتی ہے۔ اگر یہ بنیاد مضبوط اور شرعی اصولوں پر استوار ہو، تو پورا گھر سکون، محبت اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ آج ہم اسی اہم موضوع پر روشنی ڈالیں گے کہ میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض کیا ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتے کو کس بنیاد پر استوار فرمایا۔

یہ خطبہ پانچ نکات پر مشتمل ہے۔


نکتہ اول: نکاح کا مقصد اور بنیاد — سکون، مودت اور رحمت

آیتِ قرآنی

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الروم: 21)﴾

ترجمہ: اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم اُن کی طرف سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ» (رواہ البخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے نکاح چار وجوہات کی بنا پر کیا جاتا ہے: اُس کے مال، اُس کے حسب، اُس کے حسن اور اُس کے دین کی وجہ سے۔ تُو دیندار عورت کو ترجیح دے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی تجھے کامیابی ملے)۔

دوسری حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ» (رواہ الترمذی، حدیث حسن صحیح)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے اعتبار سے کامل ترین مومن وہ ہے جو اُن میں سب سے بہترین اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔

قولِ سلف

قَالَ ابْنُ الْقَيِّمِ رَحِمَهُ اللَّهُ: «وَقَدِ امْتَنَّ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِهَا عَلَى عِبَادِهِ... فَجَعَلَ الْمَرْأَةَ سَكَنًا لِلرَّجُلِ يَسْكُنُ قَلْبُهُ إِلَيْهَا، وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا خَالِصَ الْحُبِّ، وَهُوَ الْمَوَدَّةُ الْمُقْتَرِنَةُ بِالرَّحْمَةِ»

ترجمہ: امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ سبحانہ نے بیوی کی نعمت سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا... پس عورت کو مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا کہ اُس کا دل اُس کی طرف مطمئن ہو، اور اُن دونوں کے درمیان خالص محبت رکھی، اور وہ مودت ہے جو رحمت کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

تشریح

نکاح محض جنسی ضرورت کی تکمیل کا نام نہیں بلکہ یہ سکون، محبت اور رحمت پر مبنی ایک عظیم رشتہ ہے۔ آیتِ کریمہ میں لفظ سکون بتاتا ہے کہ رشتۂ ازدواج کا اصل مقصد دلی اطمینان ہے، اور حدیث میں دین کو ترجیح دینے کی تلقین اس لیے کی گئی کہ باقی تین چیزیں (مال، حسب، جمال) فانی ہیں، جبکہ دین ہی وہ بنیاد ہے جس پر سکون، مودت اور رحمت قائم رہ سکتی ہے۔

تنبیہ

بہت سے گھرانوں میں نکاح کی بنیاد محض مال، حسب یا جمال پر رکھی جاتی ہے، اور دین داری کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ اکثر ناچاقی اور طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسی طرح جہیز اور رسم و رواج کی بدعات کو نکاح پر مقدم رکھنا بھی جاہلیت کا اثر ہے۔

عملی پیغام

نکاح کرتے یا کرواتے وقت دینداری کو سب سے پہلی ترجیح بنائیں، اور رشتے کو محض دنیاوی معیارات پر نہ تولیں۔


نکتہ دوم: شوہر کے حقوق بیوی پر

آیتِ قرآنی

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ (النساء: 34)﴾

ترجمہ: مرد عورتوں پر نگران (ذمہ دار) ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے اُن میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں، پس نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، اور مرد کی غیر موجودگی میں اُس چیز کی حفاظت کرتی ہیں جس کی حفاظت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» (رواہ الترمذی، حدیث حسن صحیح)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی اور کو سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (اُس کے حق کی عظمت کی وجہ سے)۔

دوسری حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ» (رواہ البخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے، اور شوہر اُس پر ناراض ہو کر رات گزارے، تو فرشتے صبح تک اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔

قولِ سلف

قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ ابْنُ تَيْمِيَّةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: «وَلَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ بَعْدَ حَقِّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَوْجَبُ مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ»

ترجمہ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورت پر اللہ اور اُس کے رسول کے حق کے بعد شوہر کے حق سے زیادہ واجب کوئی حق نہیں۔

تشریح

شوہر کا حق بیوی پر اس قدر عظیم رکھا گیا ہے کہ اُسے سجدے سے تشبیہ دی گئی، حالانکہ سجدہ صرف اللہ کے لیے جائز ہے۔ یہ محض مبالغہ ہے تاکہ بیوی کو شوہر کے حق کی سنگینی کا احساس ہو، اور گھر کا نظام اطاعت و ذمہ داری کی بنیاد پر چل سکے۔

تنبیہ

بعض خواتین سوشل میڈیا کے رجحانات یا خاندانی دباؤ کے زیرِ اثر شوہر کی اطاعت کو کمتری کی علامت سمجھنے لگی ہیں، حالانکہ یہ اطاعت صرف معروف (شرعی حدود) میں ہے، معصیت میں نہیں۔ دوسری طرف بعض شوہر اس حق کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ظلم و زیادتی کرتے ہیں، جو خود شریعت کی رُوح کے خلاف ہے۔

عملی پیغام

شوہر اپنی بیوی سے نرمی اور انصاف کا معاملہ رکھے، اور بیوی شرعی حدود میں شوہر کی اطاعت کو اپنے دین کا حصہ سمجھے۔


نکتہ سوم: بیوی کے حقوق شوہر پر اور حسنِ معاشرت

آیتِ قرآنی

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء: 19)﴾

ترجمہ: اور اُن کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو، پس اگر تم اُنہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اُس میں بہت بھلائی رکھ دے۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ... وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ» (رواہ مسلم)

ترجمہ: جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا: عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، بے شک تم نے اُنہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے، اور اُن کی شرمگاہیں اللہ کے کلمے سے حلال کی ہیں... اور تم پر اُن کا حق ہے کہ اُنہیں دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو۔

دوسری حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ» (رواہ البخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت قبول کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے (اُس میں کچھ ٹیڑھا پن فطری ہے، اُسے برداشت کرو)۔

قولِ سلف

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما أَنَّهُ قَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَتَزَيَّنَ لِامْرَأَتِي كَمَا أُحِبُّ أَنْ تَتَزَيَّنَ لِي؛ لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ»

ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے پسند ہے کہ میں اپنی بیوی کے لیے زیب و زینت اختیار کروں جیسا کہ مجھے پسند ہے کہ وہ میرے لیے زینت اختیار کرے، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: اور عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے دستور کے مطابق اُن پر فرائض ہیں۔

تشریح

حسنِ معاشرت کا مطلب صرف ظلم نہ کرنا نہیں بلکہ اچھے سلوک، نان و نفقہ، اور جذباتی قربت کا اہتمام ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں عورتوں کے حقوق کی اس قدر تاکید اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دین کا بنیادی موضوع ہے، نہ کہ ضمنی مسئلہ۔

تنبیہ

بعض گھرانوں میں بیوی کو محض خدمت گزار سمجھا جاتا ہے، اُس کے جذبات، رائے اور ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اور نان و نفقہ میں بخل کیا جاتا ہے۔ یہ سب حسنِ معاشرت کے منافی اور نبوی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔

عملی پیغام

بیوی کے ساتھ نرم گفتاری، اُس کی رائے کی قدر اور اُس کے حقوق کی بروقت ادائیگی کو اپنا معمول بنائیں۔


نکتہ چہارم: باہمی مشاورت، تعاون اور خدمتِ گھر

آیتِ قرآنی

﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا (البقرة: 233)﴾

ترجمہ: پس اگر وہ دونوں (میاں بیوی) آپس کی رضامندی اور مشورے سے (بچے کا دودھ) چھڑانا چاہیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: «كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ» (رواہ البخاری)

ترجمہ: اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا: آپ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں لگے رہتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے نکل جاتے۔

دوسری حدیث:

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضی اللہ عنہ فِي قِصَّةِ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ: «يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ» فَفَعَلَ (رواہ البخاری)

ترجمہ: مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ صلحِ حدیبیہ کے واقعے میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اُنہیں صحابہ کے رویے کے بارے میں بتایا، تو اُنہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ چاہتے ہیں (کہ لوگ فرمانبردار ہوں)؟ آپ باہر نکلیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کریں اور اپنے سر منڈوانے والے کو بلائیں تاکہ وہ آپ کا سر منڈوا دے۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔

قولِ سلف

قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ: «كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ، وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ» (رواہ البخاری)

ترجمہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کی کوئی رائے شمار نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے اُن کے بارے میں جو نازل کرنا تھا نازل فرمایا، اور جو حصہ اُنہیں دینا تھا دیا۔

تشریح

نبوی گھرانے کا نمونہ یہ ہے کہ شوہر گھر کے کاموں میں تعاون کرے اور بیوی کی رائے کو اہمیت دے۔ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے مشورے نے صلحِ حدیبیہ کے نازک موقع پر پوری امت کا مسئلہ حل کر دیا، جو عورت کی رائے کی قدر و قیمت کی زبردست دلیل ہے۔

تنبیہ

بعض مرد بیوی کی رائے کو حقیر سمجھتے ہیں اور اُسے فیصلہ سازی میں کوئی حیثیت نہیں دیتے، جبکہ یہ رویہ جاہلیت کی باقیات میں سے ہے جسے اسلام نے ختم کیا۔ اسی طرح گھر کے کام کاج کو صرف عورت کی ذمہ داری سمجھنا اور مرد کا اس میں تعاون نہ کرنا سنتِ نبوی کے خلاف ہے۔

عملی پیغام

گھریلو فیصلوں میں بیوی سے مشورہ کریں، اور گھر کے کاموں میں بوقتِ ضرورت تعاون کو اپنی عادت بنائیں۔


نکتہ پنجم: صبر، درگزر اور تعلق میں تسلسل

آیتِ قرآنی

﴿فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء: 19)﴾

ترجمہ: پس اگر تم اُنہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اُس میں بہت بھلائی رکھ دے۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» (رواہ مسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اُسے اُس کی کوئی عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت پسند بھی ہو گی۔

دوسری حدیث:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْلِدْ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ» (رواہ البخاری)

ترجمہ: عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے، پھر دن کے آخر میں اُس سے ہمبستری کرے۔

قولِ سلف

قَالَ ابْنُ الْقَيِّمِ رَحِمَهُ اللَّهُ: «مَا حُفِظَتْ صِحَّةُ الْقُلُوبِ وَالْأَبْدَانِ وَالْأَرْوَاحِ بِمِثْلِ الصَّبْرِ، فَهُوَ الْفَارُوقُ الْأَكْبَرُ، وَالتِّرْيَاقُ الْأَعْظَمُ»

ترجمہ: امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دلوں، بدنوں اور روحوں کی صحت صبر جیسی کسی چیز سے محفوظ نہیں رہی، پس یہ سب سے بڑا فرق کرنے والا اور سب سے عظیم تریاق (علاج) ہے۔

تشریح

ازدواجی زندگی میں اختلاف اور ناپسندیدگی ایک فطری امر ہے، لیکن نبوی تعلیم یہ ہے کہ کسی ایک خامی کی وجہ سے پورے تعلق کو ختم نہ کیا جائے بلکہ خوبیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ صبر ہی وہ کنجی ہے جو ازدواجی زندگی کو مستحکم رکھتی ہے۔

تنبیہ

بعض گھروں میں معمولی اختلاف پر طلاق کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور بعض مرد بیویوں پر سختی اور تشدد کرتے ہیں، جو نبوی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ صبر کا مطلب ظلم برداشت کرنا نہیں بلکہ معمولی امور میں درگزر اور تحمل ہے۔

عملی پیغام

اختلاف کے وقت جلد بازی سے کام نہ لیں، بیوی کی خوبیوں کو یاد رکھیں، اور تعلق کو صبر و درگزر کے ساتھ مضبوط بنائیں۔


خلاصہ اور دعا

عزیزو! زوجین کا رشتہ پانچ اصولوں پر قائم رہتا ہے: سکون و مودت کی بنیاد، شوہر کے حقوق کی پاسداری، بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت، باہمی مشاورت و تعاون، اور صبر و درگزر کا تسلسل۔ جو گھرانے ان اصولوں پر عمل کریں گے، وہ ان شاء اللہ سکون اور برکت کا گہوارہ بنیں گے۔

اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِ الْأَزْوَاجِ، وَاجْعَلْ بُيُوتَنَا عَامِرَةً بِطَاعَتِكَ، مُطْمَئِنَّةً بِذِكْرِكَ۔ آمین۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


جمعرات، 29 اگست، 2024

جمعہ کے دن کی فضیلت

 إن الحمد لله، نحمده ونستعينه، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمدا عبده ورسوله أما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ [الجمعہ: 9]


ذی وقار سامعین!


اللہ تعالٰی نے جنوّں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور عبادت اس وقت اللہ کے دربار میں قبول ہوتی ہے جب اسے نبیﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ عبادات میں سے ایک اہم عبادت "نمازِ جمعہ” کی ادائیگی ہے۔ یہ جتنی اہم عبادت ہے آج ہم نے اسے اتنا ہی بے وقعت سمجھ لیا ہے۔ آج کے خطبہ جمعہ میں ہم جمعہ کے دن کی فضیلت ، بروقت جمعہ کی ادائیگی کی فضیلت ، جمعہ چھوڑنے کی وعید ، جمعہ کے دن کرنے والے کام اور جمعہ کے آداب سمجھیں گے۔


جمعہ کے دن کی فضیلت

 جمعہ کے دن کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت ہے۔


❄عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ [مسلم: 1977]


ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فر ما یا :بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے جمعے کا ہے اسی دن آدم ؑکو پیدا کیا گیا تھا اور اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی میں انھیں اس سے نکا لا گیا (خلا فت ارضی سونپی گئی ) اور قیامت بھی جمعے کے دن ہی بر پاہو گی ۔”صالح مومنوں کے لیے یہ انعام عظیم حا صل کرنے کا دن ہو گا ۔


❄عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ, فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، مِنْ حِينَ تُصْبِحُ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ, إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً, إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهَا. [ابوداؤد: 1046 صححہ الالبانی]


ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ ﷜بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ، جمعے کا دن ہے ۔ اس میں آدم پیدا کیے گئے ، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا ، اسی میں ان کی توبہ قبول کی گئی ، اسی دن ان کی وفات ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہو گی ۔ جمعہ کے دن صبح ہوتے ہی تمام جانور قیامت کے ڈر سے کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے ، سوائے جنوں اور انسانوں کے ۔ اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جسے کوئی مسلمان بندہ پا لے جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ عزوجل سے اپنی کسی ضرورت کا سوال کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عنایت فر دیتا ہے ۔ “


❄عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَا مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى


ترجمہ : سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا، ہم (دنیا میں ) تمام امتوں کےآخر میں آئے لیکن (قیامت کےدن ) تمام امتوں سے آگے ہون گے ۔صرف اتنا فرق ہےکہ انہیں پہلے کتاب د ی گئی اورہمیں بعدمیں ملی اور یہی وہ (جمعہ کا) دن ہے جس کےبارے میں لوگوں نےاختلاف کیا۔ یہودیوں نےتو اسے اس کےدوسرے دن( ہفتہ کو) کرلیا اور نصاریٰ نےتیسرے دن (اتوارکو)۔ [بخاری: 3486]


❄عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ, فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ, فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ. قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ -يَقُولُونَ: بَلِيتَ؟!- فَقَالَ:إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.


ترجمہ : سیدنا اوس بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تمہارے افضل ایام میں سے جمعے کا دن ہے ۔ اس میں آدم پیدا کیے گئے ، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی ، اسی میں «نفخة» ( دوسری دفعہ صور پھونکنا ) ہے اور اسی میں «صعقة» ہے ( پہلی دفعہ صور پھونکنا ، جس سے تمام بنی آدم ہلاک ہو جائیں گے ) سو اس دن میں مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ “ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہمارا درود آپ پر کیوں کر پیش کیا جائے گا حلانکہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے ۔ ( یعنی آپ کا جسم ) تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کر دیے ہیں ۔ “ [ابوداؤد: 1047 صححہ الالبانی]


بروقت جمعہ کی ادائیگی کی فضیلت

جمعہ والے دن کی اہم ترین عبادت نمازِ جمعہ کی بروقت ادائیگی ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں؛


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ [الجمعہ: 9] "اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید وفروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔”


عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, قَال:َ الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي جَمَاعَةٍ إِلَّا أَرْبَعَةً: عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، أَوِ امْرَأَةٌ، أَوْ صَبِيٌّ، أَوْ مَرِيضٌ.


ترجمہ: سیدنا طارق بن شہاب ﷜ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ لازماً فرض ہے ‘ سوائے چار قسم کے لوگوں کے ۔ غلام مملوک ، عورت ، بچہ اور مریض ۔ “ [ابوداؤد: 1067 صححہ الالبانی]


جمعہ والے دن اچھی طرح غسل کرکے ، خوشبو لگا کر اور اچھے کپڑے پہن کر جلد مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے جانے کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت ہے۔


❄عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَصَلَّى مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ أَنْصَتَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ ثُمَّ يُصَلِّي مَعَهُ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَفَضْلُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ [مسلم: 1987]


ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے روایت کہ آپ نے فرمایا:”جس نے غسل کیا،پھر جمعے کے لئے حاضر ہوا،پھر اس کے مقدر میں جتنی (نفل) نماز تھی پڑھی،پھر خاموشی سے(خطبہ) سنتا رہا حتیٰ کہ خطیب اپنے خطبے سے فارغ ہوگیا،پھر اس کے ساتھ نماز پڑھی،اس کے اس جمعے سے لے کر ایک اور(پچھلے یا اگلے) جمعے تک کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور مزید تین دنوں کے بھی۔”


❄عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتْ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ [بخاری: 881]


ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ ﷜سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرکے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی ( اگراول وقت مسجد میں پہنچا ) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی۔ اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اس نے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو کوئی پانچویں نمبر پر گیا اس نے گویا انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ لیکن جب امام خطبہ کے لیے باہر آجاتا ہے تو ملائکہ خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔


❄عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَبْشًا ثُمَّ دَجَاجَةً ثُمَّ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ [بخاری: 929]


ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے۔ اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا۔ لیکن جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔


❄عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ، وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا» [ابوداؤد345 صححہ الالبانی]


ترجمہ: سیدنا اوس بن اوس ثقفی ﷜ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا فرماتے تھے ” جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور خوب اچھی طرح کیا اور جلدی آیا اور ( خطبہ میں ) اول وقت پہنچا ، پیدل چل کے آیا اور سوار نہ ہوا ، امام سے قریب ہو کر بیٹھا اور غور سے سنا اور لغو سے بچا ، تو اس کے لیے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور قیام کے عمل کا ثواب ہے ۔ “


جمعہ چھوڑنے کی وعید

 جو بندہ جان بوجھ کر جمعہ نہیں ادا کرتا ، اس کے بارے میں آقا علیہ السلام نے فرمایا ہے؛


أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ [مسلم: 2002]


ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ اپنے منبر کی لکڑیوں پر (کھڑے ہو ئے) فر ما رہے تھے "لو گوں کے گروہ ہر صورت جمعہ چھوڑ دینے سے باز آجا ئیں یا اللہ تعا لیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔


 عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ -وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ-، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا, طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ [ابوداؤد: 1052 صححہ الالبانی]


ترجمہ: سیدنا ابو الجعد ضمری ﷜ ( صحابی ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص غفلت اور سستی سے تین جمعے چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ۔ “


جمعہ کے دن کرنے والے کام

1. نمازِ فجر میں سورۃ السجدہ اور سورۃ الدھر پرھنا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ


ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ ﷜ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الٓم تنزیل اور ھل اتی علی الانسان پڑھا کرتے تھے۔ [بخاری: 891]


2. سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا:

جمعہ کے روز یا جمعہ کی رات سورۃ الکہف کی تلاوت کا اہتمام خصوصی طور پر کرنا چاہئے، کیونکہ احادیث مبارکہ میں اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔


حضرت ابو سعید الخدری ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛


 مَنْ قَرَأَ سُوْرَۃَ الْکَہْفِ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ،أَضَائَ لَہُ مِنَ النُّوْرِ فِیْمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ


’’ جس شخص نے جمعہ کی رات سورۃالکہف کی تلاوت کی تو اس کے سامنے اس کے اور خانہ کعبہ کے درمیان مسافت کے برابر نور آ جاتا ہے ۔ ‘‘ [صحیح الجامع :6471]


اور دوسری روایت میں ارشاد فرمایا :


مَنْ قَرَأَ سُوْرَۃَ الْکَہْفِ فِیْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ،أَضَائَ لَہُ مِنَ النُّوْرِ مَا بَیْنَ الْجُمُعَتَیْنِ


’’ جو آدمی یومِ جمعہ کو سورۃ الکہف پڑھتا ہے تو اس کیلئے اگلے جمعہ تک نور ہی نور ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ [صحیح الجامع للألبانی:6470]


3. نبی ﷺ پر کثرت سے درود شریف پڑھنا:

سيدنا أنس بن مالك ﷜ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا ؛


أكثِروا الصَّلاةَ علي يومَ الجمُعةِ و ليلةَ الجمُعةِ ، فمَن صلَّى علي صلاةً صلَّى الله عليِه عَشرًا.


"جمعے کے دن اور جمعے کی رات مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو ؛ پس جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے الله اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔”[ صحيح الجامع : ١٢٠٩ ]


امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں ؛


"مجھے ہر حال میں نبی ﷺ پر کثرت سے دورد بھیجنا پسند ہے، مگر جمعہ کے دن اور رات کو بہت ہی محبوب ہے۔” [ الأم : ٢٣٩/١ ]


امام ابن حجر رحمه الله نقل کرتے ہیں ؛


"نبی ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے ۔” [ بذل الماعون : ٣٣٣ ]


4. کثرت سے دعا کرنا:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛


فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلَّى يَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ »


"جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے حالت نماز میں پالے تو اس میں وہ جو بھی اللہ سے دعائے خیر کرے گا، وہ پوری ہوگی ۔ [ بخارى: 6400]


اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا ؛


هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ


دعا کی قبولیت کا یہ وقت امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے اختتام تک ہوتا ہے۔ [مسلم: 853]


اس گھڑی سے متعلق دو احادیث اور بھی ہیں ، ابن ماجہ (۱۳۹) اور مسند احمد (۴۵۱/۵، ح: (۲۳۸۴۳) کی صحیح حدیث میں ہے: «هِی آخِرُ سَاعَاتِ النَّهَارِ » یہ دن کی آخری گھڑی ہے ۔ اور ابو داؤد (۱۰۴۸) کی صحیح حدیث میں ہے: «فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ » اسے عصر کے بعد کی آخری گھڑی میں تلاش کرو۔


 تو ان مختلف احادیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ گھڑی زوال آفتاب سے لے کر غروب آفتاب کی گھڑیوں میں سے کوئی گھڑی ہے۔ (واللہ اعلم )


جمعہ کے آداب

1. غسل کرنا:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ [بخاری: 877]


ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص جمعہ کی نماز کے لیے آنا چا ہے تو اسے غسل کر لینا چاہیے۔


بوقتِ مجبوری وضو پر بھی اکتفاء کرنا جائز ہے


عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنْ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ [ابوداؤد: 354 حسنہ الالبانی]


ترجمہ: سیدنا سمرہ ﷜ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے وضو کیا اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے ۔ اور جس نے غسل کیا تو یہ افضل ہے ۔ “


2. اچھے کپڑے پہننا:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَا عَلَى أَحَدِكُمْ لَوْ اشْتَرَى ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبِ مِهْنَتِهِ.


ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن سلام ﷜ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعے کے دن منبر پر (خطبے کے دوران میں) یہ فرماتے سنا: ’’کیا حرج ہے اگر تم میں سے کوئی آدمی کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ جمعے کے دن( نماز جمعہ کی حاضری) کے لیے دو کپڑے خرید لے۔‘‘ [ابن ماجہ: 1095 صححہ الالبانی]


3. مسواک اور خوشبو:

سیدنا ابوسعید خدری ﷜ نے فرمایا تھا کہ میں گواہ ہوں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا؛


الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ وَأَنْ يَسْتَنَّ وَأَنْ يَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَ


ترجمہ: جمعہ کے دن ہر جوان پر غسل، مسواک اور خوشبو لگانا اگر میسر ہو، ضروری ہے۔[بخاری: 880]


4. دورانِ خطبہ دو رکعت نماز پڑھنا:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ يَا سُلَيْكُ قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا ثُمَّ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَتَجَوَّزْ فِيهِمَا


ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ ﷜ سے روایت ہے،انھوں نےکہا:سلیک غطفانی ﷜ جمعے کے دن(اس وقت ) آئے جب رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو وہ بیٹھ گئے۔آپ نے ان سے کہا:”اے سلیک!ا ٹھ کر دو رکعتیں پڑھو اور ان میں سے اختصار برتو۔”اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا!”جب تم میں سے کوئی جمعے کےدن آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے اور ان میں اختصار کرے۔” [مسلم: 2024]


5. نمازیوں کی گردنیں نہ پھلانگنا:

نبی ﷺ نے فرمایا ؛


مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا


” جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اور اپنی اہلیہ کی خوشبو استعمال کی ۔ اگر اس کے پاس ہو ، اور اپنے عمدہ کپڑے پہنے ، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں اور اثنائے وعظ میں ( خطبے کے دوران میں ) کوئی لغو عمل نہ کیا ، تو یہ ( نماز ) ان دونوں ( جمعوں ) کے مابین کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے کوئی لغو کام کیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگیں تو اس کے لیے یہ ظہر ہی ہو گی ( یعنی ظہر کی نماز کا ثواب ہو گا نہ کہ جمعے کا ۔ “ [ابوداؤد: 347 حسنہ الالبانی]


6. دورانِ خطبہ گفتگو نہ کرنا:

❄أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ


ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہے کہ “چپ رہ” تو تو نے خود ایک لغو حرکت کی۔ [بخاری: 934]


عمرو بن شعیب اپنے والد سے ‘ وہ عبداللہ بن عمرو ؓ سے ‘ وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا؛


❄يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ, رَجُلٌ حَضَرَهَا يَلْغُو وَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا يَدْعُو فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، إِنْ شَاءَ أَعْطَاهُ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ، وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِإِنْصَاتٍ وَسُكُوتٍ وَلَمْ، يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا، فَهِيَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا، وَزِيَادَةِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ, وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا}[الأنعام: 160].


” جمعہ میں تین طرح کے افراد آتے ہیں ۔ ایک وہ شخص جو لغو کام کرتا ہے اس کا یہی حصہ ہے ۔ دوسرا دعا کے لیے آتا ہے ‘ یہ دعا کرتا ہے اﷲ چاہے تو عطا فرمائے اور چاہے تو محروم رکھے ۔ اور تیسرا وہ شخص جو خاموشی سے سنتا اور سکونت اختیار کرتا ہے ۔ کسی مسلمان کی گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو ایذا دیتا ہے ۔ اس آدمی کے لیے یہ جمعہ آیندہ جمعہ تک کے لیے اور مزید تین دن کے لیے کفارہ ہے ۔ اور یہ اس لیے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» جو ایک نیکی لاتا ہے اس کے لیے اس کا دس گنا ( اجر ) ہے ۔ “ [ابوداؤد: 1113 صححہ الالبانی]

جمعرات، 22 اگست، 2024

علماء سلف صالحین کے اقوال علم کے بارے میں بہت گہرے اور حکمت سے بھرپور ہیں

 علماء سلف صالحین کے اقوال علم کے بارے میں بہت گہرے اور حکمت سے بھرپور ہیں۔ یہاں چند اقوال عربی اور اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں:


### 1. **امام شافعی رحمہ اللہ:**

   - **عربی:**  

   _العلم ما نفع، ليس العلم ما حفظ._  

   - **اردو:**  

   "علم وہ ہے جو نفع دے، علم وہ نہیں جو صرف حفظ کیا جائے۔"


### 2. **امام مالک رحمہ اللہ:**

   - **عربی:**  

   _ليس العلم بكثرة الرواية، إنما العلم نور يقذفه الله في القلب._  

   - **اردو:**  

   "علم کثرت روایات کا نام نہیں، بلکہ علم وہ نور ہے جو اللہ دل میں ڈالتا ہے۔"


### 3. **عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ:**

   - **عربی:**  

   _نحن إلى قليل من الأدب أحوج منا إلى كثير من العلم._  

   - **اردو:**  

   "ہمیں تھوڑے ادب کی زیادہ ضرورت ہے بہ نسبت زیادہ علم کے۔"


### 4. **حسن بصری رحمہ اللہ:**

   - **عربی:**  

   _العلم علمان: علم اللسان فذلك حجة الله على ابن آدم، وعلم في القلب فذلك العلم النافع._  

   - **اردو:**  

   "علم دو قسم کا ہے: ایک زبان کا علم جو کہ اللہ کی حجت ہے انسان پر، اور دوسرا دل کا علم جو نفع دینے والا علم ہے۔"


### 5. **امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ:**

   - **عربی:**  

   _الناس أحوج إلى العلم منهم إلى الطعام والشراب، لأن الطعام والشراب يحتاج إليه في اليوم مرتين أو ثلاث مرات، والعلم يحتاج إليه كل ساعة._  

   - **اردو:**  

   "لوگ علم کے زیادہ محتاج ہیں بہ نسبت کھانے اور پینے کے، کیونکہ کھانے اور پینے کی ضرورت دن میں دو یا تین مرتبہ ہوتی ہے، جبکہ علم کی ضرورت ہر وقت ہوتی ہے۔"


### 6. **امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ:**

   - **عربی:**  

   _من أراد الدنيا فعليه بالعلم، ومن أراد الآخرة فعليه بالعلم، ومن أرادهما معًا فعليه بالعلم._  

   - **اردو:**  

   "جو دنیا چاہتا ہے اسے علم حاصل کرنا چاہیے، جو آخرت چاہتا ہے اسے بھی علم حاصل کرنا چاہیے، اور جو دونوں چاہتا ہے اسے بھی علم حاصل کرنا چاہیے۔"


یہ اقوال علم کی اہمیت اور اس کے صحیح استعمال کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ علم صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں، بلکہ عمل، اخلاق اور ادب کا مجموعہ ہے۔

جمعرات، 1 اگست، 2024

شراب اور منشیات کا استعمال {اسلام کی نظرمیں}

 

خطبہ جمعہ      شراب اور منشیات کے کثرتِ استعمال اسلام کی نظرمیں 

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الَّذِي كَرَّمَ أَوْلِيَاءَهُ وَفَطَنَ قُلُوبَ الْمَخْلُوقَاتِ بِمَحَبَّتِهِمْ، أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَلَا زَوْجَةَ لَهُ وَلَا وَلَدَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَفْضَلُ النَّاسِ تَقْوًى وَسَخَاءً. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَعَلَى جَمِيعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ وَسَلِّمْ.
يَاأَيها الذين آ مَنُوا اتقُوا اللهَ حَق تُقَا ته ولاتموتن إلا وأنتم مُسلمُون,يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَتَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً,

 يَا أ يها الذين آ منوا اتقوا الله وقولوا قَو لاً سَديداً يُصلح لَكُم أَ عما لكم وَ يَغفر لَكُم ذُ نُو بَكُم وَ مَن يُطع الله وَ رَسُولَهُ فَقَد فَازَ فَوزاً عَظيمأَمَّا بَعْدُ:

فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ

 اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اَللّٰهُمّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ [q

ربنا آتنا فى الدنيا حسنة و فى الآخرة حسنة و قنا عذاب النار ۔

ربنا افرغ علينا صبراً وثبت اقدامنا وانصرنا على القوم الکافرين۔

ربنا لا تواخذنا ان نسينا او اخطاٴنا۔ربنا ولا تحمل علينا اصراًکما حملتہ على الذين من قبلنا۔
ربنا ولا تحملنا مالا طاقة لنابہ واعف عنا واغفرلنا وارحمنآ انت مولانا فانصرناعلى القوم الکافرين۔
ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہديتنا وھب لنا من لدنک رحمة انک انت الوھاب۔
ربنا اننا آمنا فاغفرلنا ذنوبنا وقنا عذاب النار۔
ربنا اغفر لنا ذنوبنا و اسرافنا فى امرنا وثبت اقدامنا و انصرنا على القوم الکافرين۔
ربنا فاغفر لنا ذنوبنا وکفر عنا سيئاتنا و توفنا مع الابرار
۔
قرب قیامت کی علامتوں میں شراب اور منشیات کے کثرتِ استعمال کا ذکر
 مختلف احادیث میں  ملتا ہے۔ یہ منظر آج ہر جگہ ہمارے سامنے نمایاں ہے۔ مختلف مشروبات، ماکولات، گولیوں، پڑیوں، انجکشنوں اور کیپسولوں کی شکل میں نشہ کازہر نوجوانوں کی صحت اور کردار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ ذیل کے مضمون میں انہی محظورات کے استعمال اور معاشرے پر اس کے اثرات کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا خطاب دے کر اسے کائنات میں عزت بخشی۔جیساکہ ارشاد فرمایا:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِيْ آدَمَ(1) "ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی۔"

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِيْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ(2) "یقیناًًہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا۔"

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دے کر واضح کر دیا کہ کائنات میں اس مخلوق سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں۔ یہ عزت افزائی اور عزت وشرف صرف اسی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل وشعور سے نوازا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی، خیر اور شر کو پہچاننے اور اسے اپنانے، چھوڑنے کا اختیاربخشا ہے۔ اس میں نیکی اور گناہ کا مادہ رکھ کر اسے دنیا کے دار الامتحان میں بھیج دیا۔ اس دنیا میں آنے کے بعد اگر انسان ایسی چیزیں استعمال کرنا شروع کر دے جس سے اس کی عقل متاثر ہو، سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جائے، اس میں قوت بہیمیہ کا غلبہ ہو جائے تو انسانی پیدائش کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ پھر اس کی مثال جانور کی طرح ہوجاتی ہے جس میں عقل وتدبر کی صلاحیتیں مفقود ہوتی ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے اس کے شرف سے مشرف رکھنے کے لیے ایسی تمام چیزوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے جو اس کے مقصدتخلیق کے مخالف ہوں۔ اس میں ایک چیز"منشیات"ہے۔ منشیات انسانی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، اس لیے قرآن کریم میں شراب کے متعلق فرمایا:

إِنَّمَاالْخَمْرُوَالْمَیْسِرُوَالْأَنْصَابَ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہٗ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ(3)

"شراب، جوا، مورتیاں، جوے کے تیر، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہٰذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔"

اسی طرح آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

کل مسکرحرام(4) "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔"

اور ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

وَلاَ یَشْرَبُ الْخَمْرَحِیْنَ یَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ(5) "شرابی شراب پیتے وقت مؤمن نہیں رہتا۔"

اس سے شراب کے علاوہ ہر وہ چیز جو معاشرے میں انسانی عقل میں فتور لاتی ہو، اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے، اس لیے دین اسلام معاشرے میں منشیات کی پیداوار کی اجازت دیتا ہے نہ اس کی خرید وفروخت کی۔منشیات کے نتائج اور اس کی قباحت سے آگاہ کرتے ہوئے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

اِجْتَنِبُوْاالْخَمْرِ؛فَإِنَّھَاأُمُّ الْخَبَائثِ(6) "شراب سے بچو، کیونکہ وہ خباثتوں کی جڑ ہے۔"

پھر آپ نے ایک قصہ بیان فرمایا کہ پہلے زمانے میں ایک نیک انسان تھا۔ اسے ایک خاتون نے اپنے دام فریب میں گرفتار کرنا چاہا اور ایک لونڈی کو اس شخص کے پاس بھیجا اس بہانے سے کہ تجھے وہ گواہی کی غرض سے بلا رہی ہے، تو وہ شخص اس لونڈی کے ساتھ چلا آیا۔ جب وہ شخص اندر جاتا ہے تو وہ لونڈی مکان کے ہر دروازے کو بند کر دیتی ہے، حتی کہ وہ ایک عورت کے پاس پہنچا جو نہایت حسین وجمیل تھی اور اس عورت کے پاس ایک لڑکااور شراب کا ایک برتن تھا۔ اس عورت نے کہا: خدا کی قسم! میں نے تمہیں گواہی کے لیے نہیں بلایا، بلکہ اس لئے بلایا ہے تاکہ تو میری خواہش نفس کی تسکین کر، یا اس شراب میں سے ایک گلاس پی لے، یا اس لڑکے کو قتل کر۔ وہ شخص بولا: مجھے اس شراب کا ایک گلاس پلا دو، چنانچہ وہ عورت ایک گلاس اسے پلا دیتی ہے، جب اسے لطف آنے لگا تو اس نے کہا: اور دو، پھر وہاں سے نہ ہٹا، یہاں تک کہ اس عورت سے صحبت نہ کر لی اور اس لڑکے کا ناحق خون نہ کر لیا، تو تم شراب سے بچو، کیونکہ اللہ کی قسم! شراب اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، حتی کہ ایک دوسرے کو نکال دیتا ہے۔

معاشرے پر اس کے اثرات

منشیات کے معاشرے پر برے اثرات دو طرح کے ہیں۔ دینی، دنیاوی۔  پہلے اس کے دینی مضرات پر توجہ دلا کر اس کے دنیاوی مضرات بیان کیے جائیں گے۔

دینی مضرات

1: آپﷺنے فرمایا:

مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَفَاجْلِدُوْہٗ،فَإِنْ عَادَ فِيْ الْرَابِعَۃِ فَاقْتُلُوْہٗ(7)

"جس نے شراب پی لی، اسے کوڑے لگاؤ اور جو شخص چوتھی بار پی لے اسے قتل کر دو۔"

اخروی نقصانات

ایک حدیث میں آنحضرتﷺکاارشادہے:

مَنْ مَاتَ مُدْمِنَ الْخَمْرِسَقَاہٗ اﷲُ مِنْ نَّھْرِالْغُوْطَۃِ وَھُوَنَھْرٌ یَجْرِيْ مِنْ فُرُوْجِ الْمُوْمِسَاتِ یُؤْذِيْ أَھْلَ النَّارِ رِیْحُ فُرُوْجِھِنَّ(8)

"ہمیشہ شراب پینے والا جب مرے گا اللہ تعالیٰ اسے غوطہ کا پانی پلائے گا۔ پوچھا گیا: غوطہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: بدکار عورتوں کی شرم گاہوں سے لہو بہتا ہے، یہ اس کی نہر ہے۔ ان کی بدبو سے دوزخیوں کو تکلیف دی جائے گی۔"

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آنحضرتﷺ نے شراب کی وجہ سے دس لعنتیں فرمائی ہیں:

لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلیٰ عَشْرَۃِ أَوْجُہٍ: بِعَیْنِھَا، وَعَاصِرِھَا، وَمُعْتَصِرِھَا، وَبَاءِعِھَا، وَمُبْتَاعِھَا، وَحَامِلِھَا، وَالْمَحْمُوْلَۃِ إِلَیْہٖ، وَآکِلِ ثَمَنِھَا، وَشَارِبِھَا، وَسَاقِیْھَا(9)

"۱۔ بذات خود شراب پر، ۲۔ شراب بنانے والے پر، ۳۔ شراب بنوانے والے پر، ۴۔شراب فروخت کرنے والے پر،

۵۔ شراب خریدنے والے پر، ۶۔ شراب اٹھا کر لے جانے والے پر، ۷۔ جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی جائےاس پر،

۸۔ شراب کی قیمت کھانے والے پر، ۹۔ شراب پینے والے پر، ۱۰۔ شراب پلانے والے پر۔"

معاشرے میں منشیات کا پھیلاؤ

۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے ایک سروے کے مطابق امریکہ اور یورپ کے دوسرے بہت سے ممالک کے ۶۰ فیصد نوجوان بھنگ، چرس، ۱۶ فیصد کوکین اور دوسری زہریلی منشیات کے عادی ہیں۔

منشیات کے استعمال کی وجوہات واسباب

۱۔ معاشرے میں منشیات کے استعمال کی سب سے پہلے وجہ مذہب سے بیگانگی ہے، روایات سے انحراف ہے، اہل  کتاب یہود ونصاریٰ اور مسلمانوں میں بالاتفاق نشہ آور چیز حرام ہے، چنانچہ کتاب مقدس کی"کتاب امثال"میں ہے:"تو شرابیوں میں شامل نہ ہو اور نہ حریص کبابیوں میں، کیونکہ شرابی اور کھاؤ کنگال ہوجائیں گے۔"(11) اسی بائبل میں رومیوں کے نام پولس رسول کے خط میں ہے: "یہی اچھا ہے کہ تو مئے نہ پئے۔"(12)

تورات میں بھی شراب کی حرمت بیان کرنے والی آیت ملتی ہے، جس کا ترجمہ ہے:"اگر کسی آدمی کا ضدی اور گردن کش بیٹا ہو جو اپنے باپ یا ماں کی بات نہ مانتا ہو اور ان کی تنبیہ کرنے پر ان کی نہ سنتا ہو تو اس کے ماں باپ اسے پکڑ کر اور نکال کر اس شہر کے بزرگوں کے پاس اس جگہ کے بھاٹک پر لے جائیں اور وہ اس کے شہر کے بزرگوں سے عرض کریں کہ یہ ہمارا بیٹا ضدی اور گردن کش ہے، یہ ہماری بات نہیں مانتا اور اڑاو اور شرابی ہے۔ تب اس کے شہر کے سب لوگ اسے سنگسار کریں کہ وہ مرجائے، یوں تو اپنی برائی کو اپنے درمیان سے دور کرنا تب سب اسرائیلی سن کر ڈر جائیں گے۔"(13)

تمام مذاہب میں اس طرح ہدایات اور تعلیمات ہونے کے باوجود انہیں دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کیا گیا ہے۔

۲۔ دوسری وجہ جہالت ہے۔  تعلیمی ماحول میسر نہ ہونے کی وجہ سے انسان بدی اور بہتری کا فرق روا نہیں رکھ سکتا۔

۳۔ تیسری وجہ بے روزگاری ہے۔ بے روزگاری سے تنگ پست ہمت لوگ اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لئے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔

۴۔ چوتھی وجہ ملک کا وہ سرمایہ دار طبقہ ہے جو اپنے سرمائے کی بڑھوتری کے لیے انسانیت کے قاتل بن جاتے ہیں اور منشیات کو معاشرے میں فروغ دے کر اپنے سرمائے کے اضافے میں لگا رہتا ہے۔

معاشرے پر اس کے بُرے اثرات

اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَیْرٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِ الْضَعِیْفِ(15) "طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے۔"

اب ترتیب وار ان بُرے اثرات سے آگاہ کیا جائے گا جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

۱۔صحت مند جسم سے محرومی

شراب، افیون، مارفین ، ہیروئن اور اس جیسی نشہ آور دیگر اشیاء جسم کے ہر حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں، مگر دماغ،آنکھ اور معدے پر اس کے اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ان لوگوں میں اکثر دائمی قبض، عمل تنفس کا کمزور ہونا، احساسات میں نقص واقع ہونا، جس کی وجہ سے مریض ہونے کی صورت میں ان کو درد کا احساس ختم ہو جاتا ہے، چنانچہ منشیات کے عادی لوگوں کو دل کا دورہ بغیر درد کے پڑتا ہے اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

۲۔ صحت مند اولاد سے محرومی

منشیات کی عادی عورتیں جب حاملہ ہوتی ہیں تو نشہ کی وجہ سے ان کے بچوں پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔ عموما ان کے بچے پیدائشی نقص میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں ہی مر جاتے ہیں۔ ایک امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکہ میں 616000 افراد ایڈز کے مریض ہیں۔ ان میں پچیس فیصد نشہ کرنے والے افراد ہوتے ہیں۔ ماہرین کے قول کے مطابق منشیات کے عادی افراد میں ایڈز کا مرض بڑھ رہا ہے۔ (16)

۳۔ مختلف امراض کی بڑھتی ہوئی شرح

منشیات کا سب سے برا اثر دل کی دھڑکن اور ہائی بلڈ پریشر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ السر، معدے کا زخم اور اس کی وجہ سے دوسری بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جو بالاخر لا علاج شکل اختیار کرلیتی ہے۔(17)

۴۔ معاشرے میں تحمل اور رواداری کا فقدان

منشیات کا ایک برا اثر تحمل اور رواداری کا فقدان ہے۔ ذراذرا سی بات پر قتل وغارت گری تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔جب ہوش آتا ہے، پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور دشمنی اور انتقام کی آگ بھڑکتی رہتی ہے۔اس وبا نے کتنے ہی ہنستے بستے گھرانے اجاڑ کر رکھ دیئے ہیں،جس کی بے شمارمثالیں معاشرے میں ملتی ہیں۔

۵۔اخلاقیات کا فقدان

منشیات کے استعمال کا ایک برا اثر معاشرے پر یہ ہوتا ہے کہ اخلاقی قدروں سے معاشرہ محروم ہوجاتا ہے۔ عفت، عزت، ناموس اور وفا اور حیا کا احساس مٹتا چلا جاتا ہے۔

۶۔ طلاق کا بکثرت رجحان

منشیات کے استعمال سے گھر بے آباد اور ویران ہوجاتے ہیں۔ چونکہ منشیات کا عادی ذمہ داری سے عاری ہوتا ہے، جس کا نتیجہ گھر میں طلاق کی صورت میں نکلتا ہے، جس سے دو خاندان براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور ان کی اولاد کا مستقبل بھیانک اور تاریک بن جاتا ہے، اس لیے آپ علیہ السلام نے فرمایا:

مَا أَسْکَرَ کَثِیْرُہٗ فَقَلِیْلُہٗ حَرَامٌ(18) "نشہ آور چیز کی زیادہ اور کم ہر مقدار حرام ہے۔"

۷۔ جرائم کی کثرت

منشیات کا کاروبار کرنے والے مختلف گینگ بنا کر علاقے تقسیم کر لیتے ہیں، اس لیے دنیا کے جس ملک میں منشیات کا کاروبار ہے، وہاں یہ گینگ اورگروہ بندی کی اجتماعی قوت کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے لئے آڑ بننے والا شخص قتل ہوجاتا ہے، یا خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ گینگ ایک دوسرے کے خلاف مختلف علاقوں اور محلوں پر قبضے کے لیے برسرپیکار رہتے ہیں۔ یوں معاشرے کا امن تباہ ہوتا ہے اور جرائم کی کثرت ہوتی چلی جاتی ہے۔

۸۔ دہشت گردوں کا مالیاتی انحصار

دہشت گردوں کا مالیاتی انحصاربھی منشیات پر ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ بڑی رقم حاصل کر کے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ منشیات پر کنٹرول کیے بغیر دہشت گردوں کے مالی نظام کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

=۹۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا قاتل==

منشیات کے اثرات سے نوجوانوں کی صلاحیتیں ختم ہو رہی ہیں۔ انہیں نوجوانی کے ابتدائی مراحل میں نشے کا عادی بنا کر قوم کی طاقت کو اور مستقبل کو تباہ کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے:

وَلاَ تُلْقُوْا بِأَیْدِیْکُمْ إِلیٰ التَّھْلُکَۃِ(19) "اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔"

==۱۰۔ ذمہ داریوں سے فرار==

معاشرے میں منشیات کے اثرات سے معاشرہ کا ہر طبقہ پریشان ہے۔ حکومت اپنے سرکاری ملازمین سے پریشان ہے جو نشہ کر کے ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے۔ خاندان نوجوانوں سے پریشان ہیں جو گھروں میں بیوی بچوں کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل اور اہل نہیں۔یوں معاشرے کی ہر اینٹ اپنی جگہ سے اکھڑ رہی ہے۔

==۱۱۔ مالی نقصانات==

منشیات کے مضر اثرات کا ایک پہلو مالی نقصان بھی ہے، ا س کی وجہ سے امت کی معاشی اور اقتصادی حالت خراب ہوتی چلی جاتی ہے۔ سیال اور جامد منشیات کی قیمت عام طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بعض نشہ آور چیزیں مثلا ہیروئن ایک کروڑ روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتی ہے۔ منشیات کے سوداگر اپنے کاروبار کو عروج دینے کے لیے نوجوانوں کو اس لت میں مبتلا کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی سے کام کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نشہ پیدا کرنے والی ٹیبلیٹ، کیپسول، سفوف، سیرپ، پڑیا، انجکشن تیزی سے عام ہو رہے ہیں اور انہیں کم قیمت میں دستیاب کر ایا جا رہا ہے، تاکہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد جو ایسے کاروباریوں کا اصل ٹارگٹ ہیں، بآسانی ان اشیاء کو حاصل کر سکیں۔ یہ منشیات اگرچہ کم قیمت ہوتی ہیں، مگر اسی کے ذریعے عوام کو پھانس کر ان کا کل اثاثہ ہتھیا لیا جاتا ہے۔

شروع میں انسان اپنے اختیار سے اس لت میں پڑتا ہے، مگر ایسا چسکا لگتا ہے گویا وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اپنے نشہ کے حصول کے لیے گھر کا سامان، جائیداد تک بیچ ڈالتا ہے۔ آخر میں کاسہ گدائی لے کر در در بھیک مانگتا ہے، چوریاں کرتا ہے، اپنے اعضاء دل، گردہ اور خون تک بیچنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت دنیا کا مہنگا ترین کاروبار منشیات کا ہے۔ اس کے ذریعے امت کے جوانوں کو کھوکھلا اور ان کی جائیداد لوٹی جارہی ہے، گویا ایک تیر سے دو شکار کیے جا رہے ہیں۔(20)