اپنی زبان منتخب کریں

جمعرات، 13 اگست، 2026

زوجین کے باہمی حقوق و فرائض

 خطبہ: زوجین کے باہمی حقوق و فرائض


نبوی منہج کی روشنی میں گھر کی بنیاد

تمہید

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

معزز بھائیو! ہمارے سلسلے کی اب تک کی کڑیوں میں ہم نے اولاد کی تربیت کے نبوی منہج پر گفتگو کی۔ لیکن یہ تربیت اُسی گھر میں پروان چڑھتی ہے جس کی بنیاد زوجین کے تعلق پر رکھی جاتی ہے۔ اگر یہ بنیاد مضبوط اور شرعی اصولوں پر استوار ہو، تو پورا گھر سکون، محبت اور برکت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ آج ہم اسی اہم موضوع پر روشنی ڈالیں گے کہ میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض کیا ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتے کو کس بنیاد پر استوار فرمایا۔

یہ خطبہ پانچ نکات پر مشتمل ہے۔


نکتہ اول: نکاح کا مقصد اور بنیاد — سکون، مودت اور رحمت

آیتِ قرآنی

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الروم: 21)﴾

ترجمہ: اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم اُن کی طرف سکون پاؤ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ» (رواہ البخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے نکاح چار وجوہات کی بنا پر کیا جاتا ہے: اُس کے مال، اُس کے حسب، اُس کے حسن اور اُس کے دین کی وجہ سے۔ تُو دیندار عورت کو ترجیح دے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی تجھے کامیابی ملے)۔

دوسری حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ» (رواہ الترمذی، حدیث حسن صحیح)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے اعتبار سے کامل ترین مومن وہ ہے جو اُن میں سب سے بہترین اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔

قولِ سلف

قَالَ ابْنُ الْقَيِّمِ رَحِمَهُ اللَّهُ: «وَقَدِ امْتَنَّ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِهَا عَلَى عِبَادِهِ... فَجَعَلَ الْمَرْأَةَ سَكَنًا لِلرَّجُلِ يَسْكُنُ قَلْبُهُ إِلَيْهَا، وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا خَالِصَ الْحُبِّ، وَهُوَ الْمَوَدَّةُ الْمُقْتَرِنَةُ بِالرَّحْمَةِ»

ترجمہ: امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ سبحانہ نے بیوی کی نعمت سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا... پس عورت کو مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا کہ اُس کا دل اُس کی طرف مطمئن ہو، اور اُن دونوں کے درمیان خالص محبت رکھی، اور وہ مودت ہے جو رحمت کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

تشریح

نکاح محض جنسی ضرورت کی تکمیل کا نام نہیں بلکہ یہ سکون، محبت اور رحمت پر مبنی ایک عظیم رشتہ ہے۔ آیتِ کریمہ میں لفظ سکون بتاتا ہے کہ رشتۂ ازدواج کا اصل مقصد دلی اطمینان ہے، اور حدیث میں دین کو ترجیح دینے کی تلقین اس لیے کی گئی کہ باقی تین چیزیں (مال، حسب، جمال) فانی ہیں، جبکہ دین ہی وہ بنیاد ہے جس پر سکون، مودت اور رحمت قائم رہ سکتی ہے۔

تنبیہ

بہت سے گھرانوں میں نکاح کی بنیاد محض مال، حسب یا جمال پر رکھی جاتی ہے، اور دین داری کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ اکثر ناچاقی اور طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسی طرح جہیز اور رسم و رواج کی بدعات کو نکاح پر مقدم رکھنا بھی جاہلیت کا اثر ہے۔

عملی پیغام

نکاح کرتے یا کرواتے وقت دینداری کو سب سے پہلی ترجیح بنائیں، اور رشتے کو محض دنیاوی معیارات پر نہ تولیں۔


نکتہ دوم: شوہر کے حقوق بیوی پر

آیتِ قرآنی

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ (النساء: 34)﴾

ترجمہ: مرد عورتوں پر نگران (ذمہ دار) ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے اُن میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں، پس نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، اور مرد کی غیر موجودگی میں اُس چیز کی حفاظت کرتی ہیں جس کی حفاظت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» (رواہ الترمذی، حدیث حسن صحیح)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی اور کو سجدہ کرے، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے (اُس کے حق کی عظمت کی وجہ سے)۔

دوسری حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ» (رواہ البخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے، اور شوہر اُس پر ناراض ہو کر رات گزارے، تو فرشتے صبح تک اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔

قولِ سلف

قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ ابْنُ تَيْمِيَّةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: «وَلَيْسَ عَلَى الْمَرْأَةِ بَعْدَ حَقِّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَوْجَبُ مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ»

ترجمہ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورت پر اللہ اور اُس کے رسول کے حق کے بعد شوہر کے حق سے زیادہ واجب کوئی حق نہیں۔

تشریح

شوہر کا حق بیوی پر اس قدر عظیم رکھا گیا ہے کہ اُسے سجدے سے تشبیہ دی گئی، حالانکہ سجدہ صرف اللہ کے لیے جائز ہے۔ یہ محض مبالغہ ہے تاکہ بیوی کو شوہر کے حق کی سنگینی کا احساس ہو، اور گھر کا نظام اطاعت و ذمہ داری کی بنیاد پر چل سکے۔

تنبیہ

بعض خواتین سوشل میڈیا کے رجحانات یا خاندانی دباؤ کے زیرِ اثر شوہر کی اطاعت کو کمتری کی علامت سمجھنے لگی ہیں، حالانکہ یہ اطاعت صرف معروف (شرعی حدود) میں ہے، معصیت میں نہیں۔ دوسری طرف بعض شوہر اس حق کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ظلم و زیادتی کرتے ہیں، جو خود شریعت کی رُوح کے خلاف ہے۔

عملی پیغام

شوہر اپنی بیوی سے نرمی اور انصاف کا معاملہ رکھے، اور بیوی شرعی حدود میں شوہر کی اطاعت کو اپنے دین کا حصہ سمجھے۔


نکتہ سوم: بیوی کے حقوق شوہر پر اور حسنِ معاشرت

آیتِ قرآنی

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء: 19)﴾

ترجمہ: اور اُن کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو، پس اگر تم اُنہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اُس میں بہت بھلائی رکھ دے۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ... وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ» (رواہ مسلم)

ترجمہ: جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا: عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، بے شک تم نے اُنہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے، اور اُن کی شرمگاہیں اللہ کے کلمے سے حلال کی ہیں... اور تم پر اُن کا حق ہے کہ اُنہیں دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو۔

دوسری حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ» (رواہ البخاری ومسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت قبول کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے (اُس میں کچھ ٹیڑھا پن فطری ہے، اُسے برداشت کرو)۔

قولِ سلف

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما أَنَّهُ قَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَتَزَيَّنَ لِامْرَأَتِي كَمَا أُحِبُّ أَنْ تَتَزَيَّنَ لِي؛ لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ»

ترجمہ: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے پسند ہے کہ میں اپنی بیوی کے لیے زیب و زینت اختیار کروں جیسا کہ مجھے پسند ہے کہ وہ میرے لیے زینت اختیار کرے، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: اور عورتوں کے لیے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے دستور کے مطابق اُن پر فرائض ہیں۔

تشریح

حسنِ معاشرت کا مطلب صرف ظلم نہ کرنا نہیں بلکہ اچھے سلوک، نان و نفقہ، اور جذباتی قربت کا اہتمام ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں عورتوں کے حقوق کی اس قدر تاکید اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دین کا بنیادی موضوع ہے، نہ کہ ضمنی مسئلہ۔

تنبیہ

بعض گھرانوں میں بیوی کو محض خدمت گزار سمجھا جاتا ہے، اُس کے جذبات، رائے اور ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اور نان و نفقہ میں بخل کیا جاتا ہے۔ یہ سب حسنِ معاشرت کے منافی اور نبوی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔

عملی پیغام

بیوی کے ساتھ نرم گفتاری، اُس کی رائے کی قدر اور اُس کے حقوق کی بروقت ادائیگی کو اپنا معمول بنائیں۔


نکتہ چہارم: باہمی مشاورت، تعاون اور خدمتِ گھر

آیتِ قرآنی

﴿فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا (البقرة: 233)﴾

ترجمہ: پس اگر وہ دونوں (میاں بیوی) آپس کی رضامندی اور مشورے سے (بچے کا دودھ) چھڑانا چاہیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: «كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ» (رواہ البخاری)

ترجمہ: اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا: آپ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں لگے رہتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے نکل جاتے۔

دوسری حدیث:

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رضی اللہ عنہ فِي قِصَّةِ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ: «يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ» فَفَعَلَ (رواہ البخاری)

ترجمہ: مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ صلحِ حدیبیہ کے واقعے میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اُنہیں صحابہ کے رویے کے بارے میں بتایا، تو اُنہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ چاہتے ہیں (کہ لوگ فرمانبردار ہوں)؟ آپ باہر نکلیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کریں اور اپنے سر منڈوانے والے کو بلائیں تاکہ وہ آپ کا سر منڈوا دے۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔

قولِ سلف

قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ: «كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ، وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ» (رواہ البخاری)

ترجمہ: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کی کوئی رائے شمار نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے اُن کے بارے میں جو نازل کرنا تھا نازل فرمایا، اور جو حصہ اُنہیں دینا تھا دیا۔

تشریح

نبوی گھرانے کا نمونہ یہ ہے کہ شوہر گھر کے کاموں میں تعاون کرے اور بیوی کی رائے کو اہمیت دے۔ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے مشورے نے صلحِ حدیبیہ کے نازک موقع پر پوری امت کا مسئلہ حل کر دیا، جو عورت کی رائے کی قدر و قیمت کی زبردست دلیل ہے۔

تنبیہ

بعض مرد بیوی کی رائے کو حقیر سمجھتے ہیں اور اُسے فیصلہ سازی میں کوئی حیثیت نہیں دیتے، جبکہ یہ رویہ جاہلیت کی باقیات میں سے ہے جسے اسلام نے ختم کیا۔ اسی طرح گھر کے کام کاج کو صرف عورت کی ذمہ داری سمجھنا اور مرد کا اس میں تعاون نہ کرنا سنتِ نبوی کے خلاف ہے۔

عملی پیغام

گھریلو فیصلوں میں بیوی سے مشورہ کریں، اور گھر کے کاموں میں بوقتِ ضرورت تعاون کو اپنی عادت بنائیں۔


نکتہ پنجم: صبر، درگزر اور تعلق میں تسلسل

آیتِ قرآنی

﴿فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء: 19)﴾

ترجمہ: پس اگر تم اُنہیں ناپسند کرو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اُس میں بہت بھلائی رکھ دے۔

احادیثِ مبارکہ

پہلی حدیث:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» (رواہ مسلم)

ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اُسے اُس کی کوئی عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت پسند بھی ہو گی۔

دوسری حدیث:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْلِدْ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ» (رواہ البخاری)

ترجمہ: عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے، پھر دن کے آخر میں اُس سے ہمبستری کرے۔

قولِ سلف

قَالَ ابْنُ الْقَيِّمِ رَحِمَهُ اللَّهُ: «مَا حُفِظَتْ صِحَّةُ الْقُلُوبِ وَالْأَبْدَانِ وَالْأَرْوَاحِ بِمِثْلِ الصَّبْرِ، فَهُوَ الْفَارُوقُ الْأَكْبَرُ، وَالتِّرْيَاقُ الْأَعْظَمُ»

ترجمہ: امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دلوں، بدنوں اور روحوں کی صحت صبر جیسی کسی چیز سے محفوظ نہیں رہی، پس یہ سب سے بڑا فرق کرنے والا اور سب سے عظیم تریاق (علاج) ہے۔

تشریح

ازدواجی زندگی میں اختلاف اور ناپسندیدگی ایک فطری امر ہے، لیکن نبوی تعلیم یہ ہے کہ کسی ایک خامی کی وجہ سے پورے تعلق کو ختم نہ کیا جائے بلکہ خوبیوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ صبر ہی وہ کنجی ہے جو ازدواجی زندگی کو مستحکم رکھتی ہے۔

تنبیہ

بعض گھروں میں معمولی اختلاف پر طلاق کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور بعض مرد بیویوں پر سختی اور تشدد کرتے ہیں، جو نبوی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ صبر کا مطلب ظلم برداشت کرنا نہیں بلکہ معمولی امور میں درگزر اور تحمل ہے۔

عملی پیغام

اختلاف کے وقت جلد بازی سے کام نہ لیں، بیوی کی خوبیوں کو یاد رکھیں، اور تعلق کو صبر و درگزر کے ساتھ مضبوط بنائیں۔


خلاصہ اور دعا

عزیزو! زوجین کا رشتہ پانچ اصولوں پر قائم رہتا ہے: سکون و مودت کی بنیاد، شوہر کے حقوق کی پاسداری، بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت، باہمی مشاورت و تعاون، اور صبر و درگزر کا تسلسل۔ جو گھرانے ان اصولوں پر عمل کریں گے، وہ ان شاء اللہ سکون اور برکت کا گہوارہ بنیں گے۔

اللَّهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِ الْأَزْوَاجِ، وَاجْعَلْ بُيُوتَنَا عَامِرَةً بِطَاعَتِكَ، مُطْمَئِنَّةً بِذِكْرِكَ۔ آمین۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں